خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 7 (وَإِذَا سَمِعُوا)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ المائدہ کا بقیہ حصہ (آیت 82 تا 120)
- اہلِ ایمان سے قربت (آیت 82-83): عیسائیوں کی نرم دلی کا ذکر اور حق بات سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کا بیان۔
- قسموں کا کفارہ (آیت 89): لایعنی قسموں پر گرفت نہیں، لیکن پختہ قسم توڑنے کا کفارہ (مسکینوں کو کھانا کھلانا یا روزہ رکھنا) بیان کیا گیا ہے۔
- شراب اور جوئے کی حرمت (آیت 90-91): شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیروں کو شیطانی کام اور قطعی حرام قرار دیا گیا۔
- احرام میں شکار کے احکام (آیت 94-96): حالتِ احرام میں خشکی کے شکار کی ممانعت اور سمندری شکار کی اجازت۔
- مائدہ (دسترخوان) کا واقعہ (آیت 112-115): حواریوں کے مطالبے پر حضرت عیسیٰؑ کی دعا سے آسمان سے خوانِ نعمت نازل ہونے کا ذکر۔
- حضرت عیسیٰؑ کی گواہی (آیت 116-118): قیامت کے دن اللہ اور حضرت عیسیٰؑ کے درمیان مکالمہ، جس میں وہ تثلیث کے عقیدے سے اپنی برات کا اظہار کریں گے۔
سورہ الانعام: توحید اور دعوت (آیت 1 تا 73)
- تخلیقِ کائنات اور توحید (آیت 1-3): تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے زمین، آسمان اور اندھیرے و روشنی کو پیدا کیا۔
- منکرین کی ہٹ دھرمی (آیت 7-10): اگر اللہ کاغذ پر لکھی کتاب بھی اتار دیتا، تب بھی کافر اسے جادو ہی کہتے۔
- خسارے والے لوگ (آیت 12-32): دنیا کی زندگی محض کھیل تماشہ ہے، اصل گھر آخرت کا ہے، جسے جھٹلانے والے بڑے نقصان میں ہیں۔
- اللہ کی وسعتِ قدرت (آیت 59-62): غیب کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں، جنگل کا پتا بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں گرتا۔
حضرت ابراہیمؑ کا مشاہدہ اور انبیاء کا ذکر (آیت 74 تا 110)
- حضرت ابراہیمؑ کی تلاشِ حق (آیت 74-83): ستاروں، چاند اور سورج کے ذریعے اللہ کی پہچان کا استدلال اور مشرکین سے مناظرہ۔
- 18 انبیاء کا تذکرہ (آیت 84-87): ایک ہی تسلسل میں کثیر انبیاء کا ذکر اور ان کی ہدایت کا بیان۔
- حق کی نشانیاں (آیت 95-103): دانے اور گٹھلی کا پھٹنا، صبح کا نکلنا، اور کائنات کے نظام میں اللہ کی قدرت کے واضح دلائل۔
- مشرکین کے معبودوں کو برا نہ کہنا (آیت 108): مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو برا نہ کہیں تاکہ وہ جہالت میں اللہ کو برا نہ کہیں۔
