خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 16 (قَالَ أَلَمْ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الکہف کا بقیہ حصہ (آیت 75 تا 110)
- موسیٰؑ اور خضرؑ (آیت 75-82): کشتی، بچے اور دیوار کے واقعات کی حقیقت سے پردہ اٹھنا اور الٰہی مصلحتوں کا بیان۔
- ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج (آیت 83-98): ایک عادل بادشاہ کا مشرق و مغرب کا سفر اور فتنہ روکنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی تعمیر۔
- اعمال کی بربادی (آیت 103-105): سب سے زیادہ خسارے والے وہ ہیں جن کی دنیاوی کوششیں ضائع ہو گئیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔
سورہ مریم: رحمت اور معجزات (آیت 1 تا 98)
- بشارتِ یحییٰؑ (آیت 1-15): حضرت زکریاؑ کی بڑھاپے میں دعا اور حضرت یحییٰؑ کی ولادت کا معجزہ۔
- ولادتِ عیسیٰؑ (آیت 16-36): حضرت مریمؑ کا تنہائی میں جانا، کھجور کے تنے کا سہارا اور حضرت عیسیٰؑ کا گہوارے میں کلام کرنا۔
- حضرت ابراہیمؑ کی پکار (آیت 41-50): اپنے والد کو نہایت نرمی اور ادب سے توحید کی دعوت دینا۔
- انبیاء کا سلسلہ (آیت 51-58): موسیٰؑ، اسماعیلؑ اور ادریسؑ کی صفات کا ذکر اور ان کی ہدایت کا بیان۔
- تثلیث کی تردید (آیت 88-91): اس بات پر سخت غصہ کہ لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں، جس سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں۔
سورہ طٰہٰ: دعوت اور ثابت قدمی (آیت 1 تا 135)
- نزولِ قرآن کا مقصد (آیت 1-8): یہ قرآن اس لیے نہیں اتارا گیا کہ آپ مشقت میں پڑیں، بلکہ یہ ایک یاددہانی ہے۔
- موسیٰؑ کو نبوت کا ملنا (آیت 9-36): وادیِ طویٰ میں آگ دیکھنا، اللہ سے ہم کلامی اور نبوت کے بھاری بوجھ کے لیے سینہ کھلنے کی دعا۔
- مقابلہِ جادوگراں (آیت 57-73): فرعون کے دربار میں جادوگروں کی شکست اور ان کا ایمان لا کر جان کی پرواہ نہ کرنا۔
- سامری کا فتنہ (آیت 85-98): حضرت موسیٰؑ کی غیر موجودگی میں قوم کا بچھڑے کی پوجا کرنا اور سامری کا انجام۔
- ذکر سے اعراض (آیت 124): جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کی زندگی تنگ کر دی جائے گی اور قیامت کے دن وہ اندھا اٹھے گا۔
