خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 17 (اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الانبیاء: انبیاء کا ذکر اور رحمتِ عالم (آیت 1 تا 112)
- حساب کی نزدیکی (آیت 1): لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے مگر وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
- انبیاء کی بشریت (آیت 7-8): اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جو کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے تھے۔
- ابراہیم علیہ السلام اور بت شکنی (آیت 51-70): حضرت ابراہیمؑ کا بتوں کو توڑنا اور آگ کا ان کے لیے "سلامتی والا ٹھنڈا" بن جانا۔
- مشکلات میں پکار (آیت 83-90): حضرت ایوبؑ کی بیماری سے شفا، حضرت یونسؑ کی مچھلی کے پیٹ میں تسبیح اور حضرت زکریاؑ کی بے اولادی میں دعا کی قبولیت کا ذکر۔
- رحمت للعالمین (آیت 107): نبی کریم ﷺ کی شان کا بیان کہ "ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے"۔
سورہ الحج: تقویٰ اور شعائر اللہ (آیت 1 تا 78)
- قیامت کا زلزلہ (آیت 1-2): قیامت کے دن کا ہولناک منظر جب ماں اپنے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔
- اذانِ حج (آیت 26-27): حضرت ابراہیمؑ کو بیت اللہ کی تعمیر اور لوگوں میں حج کا اعلان کرنے کا حکم۔
- قربانی کا مقصد (آیت 37): اللہ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا "تقویٰ" پہنچتا ہے۔
- دفاع کی اجازت (آیت 39-40): مظلوم مسلمانوں کو پہلی بار قتال (جنگ) کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے تھے۔
- مکھی کی مثال (آیت 73): اللہ کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو وہ چھڑا بھی نہیں سکتے۔
