خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 12 (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ ہود کا بقیہ حصہ (آیت 6 تا 123)
- اللہ کی رزاقیت (آیت 6): زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے، وہ ہر ایک کے ٹھکانے سے واقف ہے۔
- انبیاء کے قصے اور انجام (آیت 25-95): اس پارے میں حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ اور حضرت شعیبؑ کی دعوت اور ان کی قوموں پر آنے والے عذاب کا تفصیلی ذکر ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔
- استقامت کا حکم (آیت 112): نبی کریم ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو حکم دیا گیا کہ جس طرح آپ کو حکم ملا ہے، اس پر ثابت قدم رہیں اور حد سے نہ بڑھیں۔
- نیکیاں اور برائیاں (آیت 114): نماز قائم کرنے کا حکم اور یہ خوشخبری کہ "نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں"۔
سورہ یوسف: احسن القصص (آیت 1 تا 52)
- خوابِ یوسفؑ (آیت 4-6): حضرت یوسفؑ کا وہ خواب جس میں انہوں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو سجدہ کرتے دیکھا، اور حضرت یعقوبؑ کی انہیں خواب چھپانے کی نصیحت۔
- بھائیوں کی سازش (آیت 7-18): حسد کے نتیجے میں بھائیوں کا یوسفؑ کو کنوئیں میں ڈالنا اور والد کو خون آلود قمیص دکھا کر جھوٹی کہانی سنانا۔
- مصر کا سفر (آیت 19-22): قافلے والوں کا یوسفؑ کو نکالنا اور مصر کے بازار میں "عزیزِ مصر" کے ہاتھوں سستے داموں فروخت کر دینا۔
- آزمائش اور عفت (آیت 23-34): زلیخا کی طرف سے آزمائش، حضرت یوسفؑ کا اللہ کی پناہ مانگنا اور اپنی پاکدامنی ثابت ہونے کے باوجود جیل جانا پسند کرنا۔
- قید خانہ اور خوابوں کی تعبیر (آیت 35-42): جیل میں دو قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر بتانا اور ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا۔
- بادشاہ کا خواب (آیت 43-52): مصر کے بادشاہ کا خواب دیکھنا، یوسفؑ کا اس کی تعبیر بتانا اور جیل سے رہائی سے قبل اپنی پاکدامنی کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا۔
