خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 8 (وَلَوْ أَنَّنَا)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الانعام کا بقیہ حصہ (آیت 111 تا 165)
- ذبیحہ کے احکام (آیت 118-121): جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھانے کی اجازت، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کی حرمت کا بیان۔
- زرعی پیداوار اور مویشی (آیت 141-144): باغات اور کھیتوں کی پیداوار میں اللہ کا حق (عشر/زکوٰۃ) ادا کرنے کی تاکید اور مشرکانہ وہم و گمان کی تردید۔
- دس بنیادی وصیتیں (آیت 151-153): شرک سے بچنا، والدین سے حسنِ سلوک، قتلِ اولاد کی ممانعت، بے حیائی سے دوری اور عدل و انصاف جیسے اہم احکامات۔
- فرقہ بندی سے بچاؤ (آیت 159): دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں اور فرقوں میں بٹنے والوں سے اظہارِ بیزاری۔
- اعمال کا بدلہ (آیت 160): اللہ کا کرم کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، جبکہ برائی کا بدلہ صرف اسی کے برابر ہے۔
سورہ الاعراف: تخلیقِ آدمؑ اور لباس (آیت 1 تا 31)
- اعمال کا وزن (آیت 8-9): قیامت کے دن حق کے ساتھ وزن ہوگا، جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔
- سجدہِ آدمؑ اور ابلیس کا تکبر (آیت 11-18): حضرت آدم علیہ السلام کو سجدے کا حکم اور ابلیس کا انکار و دشمنی کا عہد۔
- جنت سے زمین کا سفر (آیت 19-25): شیطان کے بہکاوے میں آکر شجرِ ممنوعہ کھانا اور پھر توبہ و استغفار کے بعد زمین پر اتارے جانے کا ذکر۔
- لباس اور تقویٰ (آیت 26-27): اللہ نے انسان کو ستر پوشی اور زینت کے لیے لباس دیا، مگر "تقویٰ کا لباس" سب سے بہترین ہے۔
- عبادت گاہوں کے آداب (آیت 31): مسجد جاتے وقت زینت (صاف لباس) اختیار کرنے اور اعتدال کے ساتھ کھانے پینے کی ہدایت۔
انبیاءِ کرام کے قصص (آیت 59 تا 87)
- حضرت نوح علیہ السلام (آیت 59-64): قوم کو توحید کی دعوت اور ان کی تکذیب کے نتیجے میں طوفان کا عذاب۔
- حضرت ہود علیہ السلام (آیت 65-72): قومِ عاد کی طرف بھیجے گئے، جنہوں نے اپنی طاقت پر غرور کیا اور ہلاک ہوئے کر دیے گئے۔
- حضرت صالح علیہ السلام (آیت 73-79): قومِ ثمود کی طرف "اونٹنی" کی نشانی بھیجی گئی، جس کی بے حرمتی پر ان پر زلزلہ کا عذاب آیا۔
- حضرت لوط علیہ السلام (آیت 80-84): قوم کی بے حیائی (ہم جنس پرستی) پر ان کی شدید مذمت اور ان پر ہونے والی پتھراؤ کی بارش کا ذکر۔
- حضرت شعیب علیہ السلام (آیت 85-87): اہل مدین کو ناپ تول میں کمی سے روکنا اور دیانت داری کی دعوت۔
