About Me

Thursday, April 2, 2026

سنت کے مطابق: حج و عمرہ کا مکمل مذاکرہ اور زیاراتِ مدینہ

سنت کے مطابق: حج و عمرہ کا مکمل مذاکرہ اور زیاراتِ مدینہ

بیان: ابو الحسن مولانا اشفاق حبیب صاحب (شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال)

سفرِ حج کی تیاری اور ضروری سامان

  • بیگ اور کپڑے: آپ کا بیگ مضبوط ہونا چاہیے۔ کم از کم 4 جوڑے کپڑے ساتھ رکھیں کیونکہ وہاں شدید گرمی اور رش میں بار بار دھونے کی دقت ہوتی ہے۔
  • جائے نماز اور بیلٹ: ایسی جائے نماز رکھیں جو کرسی بھی بن سکے تاکہ حرم کے سخت فرش پر بیٹھنے میں آسانی ہو۔ احرام کا بیلٹ سیفٹی پن سے باندھ لیں تاکہ گرے نہیں۔
  • ادویات اور کتب: ضروری ادویات اور دعاؤں کی کتب (جیسے مناجاتِ مقبول) اپنے ساتھ ضرور رکھیں۔

احرام کے جوتے اور پیدل چلنے کی مشق

مردوں کے لیے احرام میں ایسے جوتے (چپل) پہننا شرط ہے جن میں پاؤں کے سامنے والی ابھری ہوئی ہڈی اور ٹخنہ کھلا رہے۔ نئے جوتے پہلے پہن کر عادی ہو جائیں کیونکہ وہاں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

میقات، نیت اور احرام باندھنا

میقات کی پابندی: جدہ کی فلائٹ ہو تو ایئرپورٹ پر ہی احرام باندھ لیں، لیکن نیت اور تلبیہ جہاز اڑنے کے بعد پڑھیں۔ (لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ...) جب تک تلبیہ نہیں پڑھتے، احرام کی پابندیاں شروع نہیں ہوتیں۔

احرام کی سخت پابندیاں اور جرائم

  • خوشبو کے مسائل: خوشبو دار صابن یا ہینڈ واش استعمال کرنا منع ہے۔ اگر چوتھائی عضو سے زیادہ خوشبو لگی تو دم (قربانی) واجب ہوگی۔
  • بال اور ناخن: وضو میں 1 یا 2 بال ٹوٹ جائیں تو صدقہ دیں۔ چوتھائی سر کے بال کٹوا لیے تو دم لازم ہوگا۔

مدینہ منورہ کا سفر اور زیارات

مدینہ پہنچ کر باب السلام سے داخل ہوں اور روضہ اطہر ﷺ پر نہایت ادب سے سلام پیش کریں۔ جنت البقیع اور مسجد قباء کی زیارت بھی کریں، جہاں دو نفل کا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے۔

کورس کی مکمل ویڈیوز یہاں دیکھیں

حج کورس (حصہ اول)



حج کورس (حصہ دوم)



رابطہ اور مزید معلومات

AL REHMAN ONLINE QURAN ACADEMY

رابطہ نمبر (واٹس ایپ):+92 3126167833 

فیس بک پیج:https://www.facebook.com/share/1DREN7e4SG 

بلاگر ویب سائٹ: alrehmanacademypk.blogspot.com

صدقہ جاریہ کی نیت سے اس پیغام کو آگے شیئر کریں

Friday, March 27, 2026

Noorani Qaida Online

📖 نورانی قاعدہ - آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں



اگر آپ کو قاعدہ نظر نہیں آرہا تو ایک بار پیج ریفریش کریں یا نیچے بٹن سے ڈاؤن لوڈ کریں۔

⬇️ ڈاؤن لوڈ کریں (Download PDF)

شوال کے چھ روزوں کے فضائل اور شرعی احکام

شوال کے چھ روزوں کے فضائل اور شرعی احکام

اس دستاویز میں شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اور اس سے متعلق مختلف شرعی مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین ان مبارک ایام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

🌟 شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

  • احادیث مبارکہ کے مطابق جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ پورے سال کے روزے رکھنے کے مترادف ہے۔
  • اگر کوئی مسلمان ہر سال اس ترتیب کا اہتمام کرے تو یہ ایسا شمار ہوتا ہے جیسے اس نے اپنی پوری زندگی روزوں میں گزاری ہو۔

🧮 ثواب کا حساب اور حکمت

  • حساب: ایک نیکی کا اجر 10 گنا ہے۔ رمضان کا ایک مہینہ (30 دن) 300 دنوں کے برابر اور شوال کے 6 روزے 60 دنوں کے برابر ہو کر پورے سال (360 دن) کا اجر بناتے ہیں۔
  • حکمت: ان روزوں سے رمضان کے روزوں میں ہونے والی کوتاہیاں دور ہو جاتی ہیں۔ ان کی حیثیت فرض نمازوں کے ساتھ سنن اور نوافل جیسی ہے۔

💡 غلط فہمیوں کا ازالہ

جمہور فقہاء (احناف، شوافع، حنابلہ) کے نزدیک یہ روزے مسنون اور مستحب ہیں۔

  • امام مالکؒ کا موقف: آپؒ نے عید کے فوراً بعد اہتمام کے ساتھ روزہ رکھنے کو اس لیے مکروہ کہا تھا تاکہ لوگ اسے فرض نہ سمجھ بیٹھیں۔
  • آج کل عوام ان روزوں کو فرض یا واجب نہیں سمجھتی، لہذا یہ اندیشہ اب باقی نہیں رہا۔

📜 اہم شرعی مسائل

  • یہ روزے فرض یا واجب نہیں، محض مستحب اور مسنون ہیں۔
  • شوال کے پورے مہینے میں جب چاہیں رکھے جا سکتے ہیں، مسلسل رکھنا ضروری نہیں۔
  • شوال کے روزوں اور قضاء روزوں کی نیت ایک ساتھ جمع کرنا درست نہیں۔
  • اگر کوئی پابندی سے رکھتا ہو اور کسی سال نہ رکھ سکے، تو وہ گناہگار نہیں ہوتا اور نہ ہی ادھورے روزوں کی قضاء لازم ہے۔

Wednesday, March 18, 2026

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 30

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 30 (عَمَّ یَتَسَاءَلُوْنَ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


عظیم خبر اور کائنات کی نشانیاں (النباء، النازعات، عبس)

  • قیامت کی خبر (النباء): قیامت کے وقوع اور جزا و سزا کا تذکرہ، اور یہ کہ اس دن انسان اپنے کیے ہوئے اعمال کو سامنے دیکھے گا۔
  • روح نکالنے والے فرشتے (النازعات): موت کی حقیقت اور حضرت موسیٰؑ و فرعون کے قصے سے عبرت کی تلقین۔
  • تبلیغ کی اہمیت (عبس): ایک نابینا صحابی کے واقعے کے ذریعے یہ بتانا کہ اللہ کے نزدیک مخلص طالبِ حق کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔

انقلابِ آخرت اور انسانی کردار (التکویر، الانفطار، المطففین، الانشقاق)

  • سورج کا لپیٹا جانا (التکویر): کائنات کے نظام کے درہم برہم ہونے کے ہولناک مناظر کا بیان۔
  • ناپ تول میں کمی (المطففین): کاروبار میں بددیانتی کرنے والوں کے لیے ہلاکت کی وعید۔
  • نامہ اعمال (الانشقاق): جس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا، اور جس کا پیچھے سے دیا گیا وہ تباہ ہوگا۔

ایمان، استقامت اور نجات (البروج تا الناس)

  • خندق والے (البروج): ایمان کی خاطر آگ میں جل جانے والے مومنوں کے صبر اور ظالموں کے انجام کا تذکرہ۔
  • شکر گزاری (الضحیٰ، الم نشرح): نبی ﷺ پر اللہ کے احسانات کا ذکر اور تنگی کے بعد آسانی کی خوشخبری۔
  • خلاصہِ دین (العصر، الاخلاص): وقت کی قسم کھا کر بتایا گیا کہ کامیابی صرف ایمان، عملِ صالح اور حق کی وصیت میں ہے۔
  • اللہ کی پناہ (الفلق، الناس): حاسدوں کے حسد اور وسوسہ ڈالنے والے شیطان کے شر سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 29

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 29 (تَبَارَكَ الَّذِیْ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


اللہ کی بادشاہت اور قدرت (الملک، القلم، الحاقہ)

  • موت اور زندگی کا مقصد (الملک): اللہ نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔
  • نبی ﷺ کے اخلاق (القلم): "بیشک آپ ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں"؛ نیز قلم اور علم کی اہمیت کا بیان۔
  • سچی ہونے والی (الحاقہ): قیامت کی ہولناکیوں اور سابقہ قوموں (عاد و ثمود) کے انجام کا تذکرہ۔

دعوت، صبر اور بندگی (المعارج، نوح، الجن، المزمل)

  • حضرت نوحؑ کی پکار (نوح): ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن رات دعوت دینے اور ان کی نافرمانی پر آنے والے طوفان کا ذکر۔
  • جنات کا ایمان (الجن): جنات کے ایک گروہ کا قرآن سننا اور اس کی فصاحت و بلاغت سے متاثر ہو کر ایمان لانا۔
  • تہجد اور ترتیل (المزمل): نبی ﷺ کو راتوں میں قیام کرنے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھنے کا حکم۔

تبلیغ اور آخرت کا یقین (المدثر، القیامہ، الدھر، المرسلات)

  • اٹھئے اور خبردار کیجئے (المدثر): نبی ﷺ کو تبلیغِ دین کے لیے اٹھ کھڑے ہونے اور اپنے کپڑے پاک رکھنے کی تاکید۔
  • انسان کی تخلیق (الدھر/الانسان): انسان کا بے حقیقت قطرے سے پیدا ہونا اور پھر اسے شکر گزار یا ناشکرا بننے کا اختیار دیا جانا۔
  • فیصلے کا دن (المرسلات): قیامت کے دن منکرینِ حق کے لیے بار بار ہلاکت اور تباہی کی وعید۔

Tuesday, March 17, 2026

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 28

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 28 (قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞

خاندانی آداب اور منافقین (المجادلہ، الحشر، الممتحنہ)

  • ظہار کا مسئلہ (المجادلہ): ایک عورت کی شکایت پر جاہلیت کی رسم "ظہار" کا خاتمہ اور خاندان کے تحفظ کا حکم۔
  • جلاوطنی اور مالِ فے (الحشر): بنو نضیر کی بدعہدی اور ان کے اخراج کا تذکرہ، اور مالِ فے کی تقسیم کے اصول۔
  • اللہ کے نام (آیت 22-24): سورہ حشر کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ کے خوبصورت صفاتی ناموں کا ایمان افروز بیان۔
  • دشمنوں سے دوستی (الممتحنہ): کفار سے دوستی اور تعلقات کے حوالے سے حدود و قیود کا تعین۔

اجتماعی نظم و ضبط (الصف، الجمعہ، المنافقون)

  • سیسہ پلائی ہوئی دیوار (الصف): اللہ کی راہ میں متحد ہو کر لڑنے والوں کی فضیلت اور قول و فعل کے تضاد کی مذمت۔
  • نمازِ جمعہ (الجمعہ): جمعہ کی اذان ہوتے ہی کاروبار چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑنے کی تاکید۔
  • نفاق کی حقیقت (المنافقون): منافقوں کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کرنا اور مال و اولاد کے فتنے سے بچنے کی نصیحت۔

گھریلو زندگی کی تربیت (التغابن، الطلاق، التحریم)

  • طلاق کے احکام (الطلاق): عدت، نفقہ اور طلاق کے صحیح طریقے کا بیان تاکہ عورتوں کے حقوق غصب نہ ہوں۔
  • گھر والوں کی تربیت (التحریم): "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں"۔
  • خواتین کے لیے مثالیں (آیت 10-12): فرعون کی بیوی حضرت آسیہؑ اور حضرت مریمؑ کی ایمانی مثالیں، اور نافرمانوں کے لیے نوحؑ و لوطؑ کی بیویوں کا تذکرہ۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 27

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 27 (قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


سورہ النجم اور سورہ القمر: رسالت اور قدرت

  • سدرۃ المنتہیٰ (سورہ النجم): معراج کے سفر کا تذکرہ اور نبی ﷺ کے اللہ کے قریب ہونے اور مشاہداتِ قدرت کا بیان۔
  • شق القمر (سورہ القمر): چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ اور قوموں کے عبرتناک انجام کے بعد یہ بار بار تذکرہ کہ "ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟"

سورہ الرحمن اور سورہ واقعہ: نعمتیں اور جزا

  • تم کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ (سورہ الرحمن): انسان اور جنات کو مخاطب کر کے اللہ کی تخلیق، سمندروں، پھلوں اور جنت کی نعمتوں کا دلکش بیان۔
  • تین گروہ (سورہ واقعہ): قیامت کے دن لوگ تین گروہوں میں ہوں گے: سابقون (سبقت لے جانے والے)، اصحاب الیمین (دائیں ہاتھ والے) اور اصحاب الشمال (بائیں ہاتھ والے)۔

سورہ الحدید: انفاق اور تقویٰ

  • قرضِ حسنہ (آیت 11): اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا بدلہ وہ کئی گنا بڑھا کر دے گا۔
  • دنیا کی حقیقت (آیت 20): دنیاوی زندگی کو کھیل تماشہ، زینت اور فخر و مباہات قرار دیا گیا، جبکہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔
  • لوہے کا تذکرہ (آیت 25): اللہ نے لوہا اتارا جس میں سخت جنگی قوت اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 26

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 26 (حمٓ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


سورہ الاحقاف اور سورہ محمد ﷺ: عمل اور اتباع

  • والدین کی خدمت (الاحقاف): ماں کی تکلیفوں کا ذکر اور چالیس سال کی عمر میں والدین کے لیے دعا کرنے کی تلقین۔
  • اعمال کی قبولیت (سورہ محمد): جو لوگ ایمان لائے اور محمد ﷺ پر نازل کردہ حق کی پیروی کی، اللہ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور ان کے حالات سنوار دیے۔
  • تدبرِ قرآن (آیت 24): "کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟"

سورہ الفتح اور سورہ الحجرات: فتح اور اخلاق

  • فتحِ مبین (الفتح): صلحِ حدیبیہ کو کھلی فتح قرار دیا گیا اور مومنوں کے دلوں پر سکینت نازل ہونے کا تذکرہ۔
  • ادبِ رسول ﷺ (الحجرات): نبی ﷺ کے سامنے اپنی آوازوں کو بلند نہ کرنے کا حکم تاکہ اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔
  • معاشرتی برائیاں (آیت 11-12): تمسخر اڑانے، عیب نکالنے، برے ناموں سے پکارنے، بدگمانی، تجسس اور غیبت کرنے کی سخت ممانعت۔
  • انسانی برابری (آیت 13): تمام انسان ایک مرد اور عورت سے پیدا ہوئے؛ فضیلت کا معیار صرف "تقویٰ" ہے۔

سورہ ق اور سورہ الذاریات: آخرت کی یاد

  • قربِ الٰہی (سورہ ق): اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور فرشتے ہر قول و فعل کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔
  • موت کی سختی (آیت 19): موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ کر رہے گی، جس سے انسان بھاگتا تھا۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 25

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 25 (اِلَیْہِ یُرَدُّ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞

سورہ الشوریٰ: مشورہ اور وحدت (آیت 1 تا 53)

  • اتحادِ دین (آیت 13): تمام انبیاء کو ایک ہی دین (اسلام) قائم کرنے اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا۔
  • باہمی مشاورت (آیت 38): مومنوں کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اہم معاملات "باہمی مشورے" سے طے کرتے ہیں۔
  • اولاد کا عطیہ (آیت 49-50): آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے؛ وہ جسے چاہے بیٹیاں دے، جسے چاہے بیٹے، اور جسے چاہے بانجھ کر دے۔

سورہ الزخرف: دنیاوی زیب و زینت (آیت 1 تا 89)

  • سفر کی دعا (آیت 13-14): سواری پر بیٹھتے وقت اللہ کا شکر ادا کرنے اور "سبحان الذی سخر لنا ھذا..." پڑھنے کی تعلیم۔
  • دنیا کی حیثیت (آیت 33-35): اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہو جائیں گے، تو اللہ کافروں کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی اور سونے کی بنا دیتا؛ کیونکہ اللہ کے نزدیک دنیا کی زینت کی کوئی قدر نہیں۔

سورہ الدخان اور سورہ الجاثیہ

  • لیلۃ المبارکہ (سورہ الدخان): قرآن مجید ایک برکت والی رات میں نازل ہوا جس میں تمام حکمت والے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔
  • فرعون کا انجام (سورہ الدخان): فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہونے کا ذکر کہ ان کے مرنے پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین۔
  • شریعت کی پیروی (سورہ الجاثیہ): نبی ﷺ کو ایک واضح شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا گیا ہے اور انہیں اسی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔
  • اپنے نفس کو معبود بنانا (آیت 23): اس شخص کی مذمت جس نے اپنی "خواہشِ نفس" کو اپنا معبود بنا لیا۔

Monday, March 16, 2026

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 24

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 24 (فَمَنْ أَظْلَمُ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


سورہ الزمر: امید اور توبہ (آیت 32 تا 75)

  • اللہ کی رحمت (آیت 53): یہ قرآن کی سب سے زیادہ امید افزا آیت ہے: "اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے"۔
  • حشر کے مناظر (آیت 67-75): قیامت کے دن زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی، صور پھونکا جائے گا اور لوگوں کو گروہ در گروہ جنت اور دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔

سورہ المؤمن (غافر): غافر الذنب (آیت 1 تا 85)

  • اللہ کی صفات (آیت 3): وہ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔
  • عرش اٹھانے والے فرشتے (آیت 7): عرش کو اٹھانے والے فرشتے اہل زمین کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
  • مومنِ آلِ فرعون کا قصہ (آیت 28-45): فرعون کے دربار میں موجود ایک چھپے ہوئے مومن کا ذکر جس نے حضرت موسیٰؑ کی حمایت کی اور بڑی حکمت سے اپنی قوم کو حق کی دعوت دی۔
  • دعا کی ترغیب (آیت 60): "مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا"۔

سورہ حٰم السجدہ (فصلت): استقامت (آیت 1 تا 46)

  • تخلیقِ کائنات (آیت 9-12): زمین و آسمان کی چھ دنوں میں تخلیق کا ذکر۔
  • جسمانی اعضاء کی گواہی (آیت 20-22): قیامت کے دن انسان کے کان، آنکھیں اور کھالیں اس کے خلاف گواہی دیں گی۔
  • استقامت کا صلہ (آیت 30-32): جو لوگ کہتے ہیں "ہمارا رب اللہ ہے" اور پھر اس پر جم جاتے ہیں، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو انہیں جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔
  • بہترین بات (آیت 33): اس سے اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 23

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 23 (وَمَا لِیَ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞

سورہ یٰسین کا بقیہ حصہ (آیت 28 تا 83)

  • قدرت کے مناظر (آیت 33-40): مردہ زمین کا زندہ ہونا، سورج اور چاند کا اپنے اپنے مدار میں تیرنا اللہ کی ربوبیت کی دلیل ہے۔
  • قیامت کا صور (آیت 51-54): صور پھونکے جانے پر لوگ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
  • اہلِ جنت (آیت 55-58): جنتی لوگ اپنے جوڑوں کے ساتھ سایوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ربِ رحیم کی طرف سے انہیں "سلام" کہا جائے گا۔
  • اعضاء کی گواہی (آیت 65): اس دن ہم ان کے منہ بند کر دیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔

سورہ الصافات: توحید اور ایثار (آیت 1 تا 182)

  • فرشتوں کی صفیں (آیت 1-5): اللہ کی تسبیح بیان کرنے والے فرشتوں کا تذکرہ اور کائنات کے اکیلے مالک کی گواہی۔
  • ذبحِ عظیم (آیت 102-107): حضرت ابراہیمؑ کا اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا خواب دیکھنا اور اللہ کا اس امتحان میں انہیں کامیاب کر کے مینڈھے کی قربانی عطا کرنا۔
  • حضرت یونسؑ (آیت 139-148): مچھلی کے پیٹ میں ان کی تسبیح اور اللہ کا انہیں دوبارہ ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجنا۔

سورہ ص: انبیاء کا صبر (آیت 1 تا 88)

  • حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ (آیت 17-33): ان کی حکمرانی، عدل و انصاف اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی صفت کا تذکرہ۔
  • حضرت ایوبؑ کا صبر (آیت 41-44): بیماری اور تکلیف میں ان کی استقامت اور اللہ کا انہیں دوبارہ صحت و مال سے نوازنا۔
  • تخلیقِ آدم و ابلیس (آیت 71-85): حضرت آدمؑ کی تخلیق، ابلیس کا تکبر اور اس کے بہکاوے سے بچنے کی تنبیہ۔

سورہ الزمر: اخلاصِ بندگی (آیت 1 تا 31)

  • خالص بندگی (آیت 2-3): اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ دین صرف اسی کے لیے خالص ہو۔
  • تخلیق کے تین اندھیرے (آیت 6): انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تین اندھیروں (پیٹ، رحم اور جھلی) میں تخلیق پانا۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 22

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 22 (وَمَنْ یَّقْنُتْ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞

سورہ الاحزاب: اسوہِ حسنہ اور معاشرت (آیت 31 تا 73)

  • ازواجِ مطہرات کا مقام (آیت 32-34): امہات المؤمنین کو تقویٰ، پردہ اور گھروں میں رہنے کی تاکید تاکہ وہ امت کے لیے نمونہ بنیں۔
  • اسوہِ حسنہ (آیت 21): "بیشک تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔
  • خاتم النبیین (آیت 40): حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں میں آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
  • درود و سلام (آیت 56): اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجو۔
  • حجاب کا حکم (آیت 59): مسلمان عورتوں کو ہدایت کہ جب گھر سے باہر نکلیں تو اپنی چادریں (جلباب) اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔

سورہ سبا: شکر اور کفرانِ نعمت (آیت 1 تا 54)

  • داؤدؑ و سلیمانؑ (آیت 10-14): حضرت داؤدؑ کے لیے لوہے کا نرم ہونا اور حضرت سلیمانؑ کے لیے جنات کا مسخر ہونا۔
  • قومِ سبا کا انجام (آیت 15-17): باغات اور نعمتیں ملنے کے باوجود ناشکری کرنے پر قومِ سبا کو سیلابِ عرم کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

سورہ فاطر: اللہ کی خالقیت (آیت 1 تا 45)

  • خالقِ کائنات (آیت 1): اللہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے جس نے فرشتوں کو پروں والا بنایا۔
  • شیطان کی دشمنی (آیت 6): "بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، لہذا اسے اپنا دشمن ہی سمجھو"۔
  • انسان کی محتاجی (آیت 15): "اے لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے"۔

سورہ یٰسین: قرآن کا دل (آیت 1 تا 27)

  • حق کی شہادت (آیت 1-6): سورہ یٰسین کا آغاز رسالت کی گواہی اور قرآن کی حکمت سے ہوتا ہے۔
  • اصحاب القریہ (آیت 13-27): ایک بستی کی مثال جہاں رسول بھیجے گئے اور ایک مومن (حبیب نجار) کا ذکر جس نے حق کی حمایت میں جان دے دی اور جنت میں داخل ہوا۔

خلاصہ القرآن - (آیات کی تقسیم کے ساتھ تمام مضامین کا خلاصہ)پارہ نمبر 21

خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 21 (اتْلُ مَا أُوحِیَ)

۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞


سورہ العنکبوت کا بقیہ حصہ (آیت 46 تا 69)

  • اہلِ کتاب سے گفتگو (آیت 46): اہل کتاب سے بہترین طریقے سے بحث کرنے اور مشترکہ ایمانی بنیادوں پر گفتگو کا حکم۔
  • ہجرت کی ترغیب (آیت 56): اگر کہیں دین پر عمل مشکل ہو جائے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، ہجرت کر جاؤ۔
  • مجاہدہ اور ہدایت (آیت 69): جو لوگ اللہ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں، اللہ انہیں اپنے راستے ضرور دکھا دیتا ہے۔

سورہ الروم: پیش گوئی اور قدرت (آیت 1 تا 60)

  • روم کی فتح (آیت 1-6): رومیوں کی شکست کے بعد ان کی دوبارہ فتح کی پیش گوئی جو چند سالوں میں پوری ہوئی۔
  • رشتہ ازدواج (آیت 21): میاں بیوی کے درمیان سکون، محبت اور رحمت کا پیدا کرنا اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔
  • فطرتِ انسانی (آیت 30): دینِ اسلام کو "دینِ فطرت" قرار دیا گیا ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا۔

سورہ لقمان: حکمت اور نصیحت (آیت 1 تا 34)

  • لقمان حکیم کی بیٹے کو نصیحتیں (آیت 13-19): شرک سے بچنا، والدین کا ادب، نماز کی پابندی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور چال ڈھال میں عاجزی اختیار کرنا۔
  • اللہ کا علم (آیت 27): اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر سیاہی، تب بھی اللہ کی باتیں (کلمات) ختم نہ ہوں گی۔

سورہ السجدہ اور سورہ الاحزاب کا آغاز

  • سجدہ کی حالت (آیت 15-16): سچے مومنوں کا حال کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں اور ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔
  • منہ بولے بیٹے (آیت 4-5): سورہ الاحزاب میں جاہلیت کی رسموں کی تردید کہ منہ بولے بیٹے سگے بیٹے نہیں ہوتے۔