خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 9 (قَالَ الْمَلَأُ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الاعراف کا بقیہ حصہ (آیت 88 تا 206)
- حضرت شعیب علیہ السلام کا انجام (آیت 88-93): قوم کے سرداروں کی دھمکیاں اور بالآخر ان پر آنے والے ہولناک زلزلے کا ذکر۔
- موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا معرکہ (آیت 103-126): دربارِ فرعون میں معجزات کا دکھانا، جادوگروں سے مقابلہ اور جادوگروں کا حق پہچان کر سجدے میں گر جانا۔
- فرعون پر آنے والی بلائیں (آیت 130-135): مصر پر قحط، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون کے عذابوں کا تسلسل۔
- کوہِ طور اور الواح (آیت 142-145): حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چالیس راتیں طور پر گزارنا، اللہ سے ہم کلامی اور تورات کی تختیوں کا ملنا۔
- بچھڑے کی عبادت (آیت 148-156): موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں قوم کا سونے کے بچھڑے کو معبود بنانا اور پھر توبہ کا واقعہ۔
- عہدِ الست (آیت 172-174): تمام انسانوں کی روحوں سے اللہ کی ربوبیت کا وہ وعدہ جو تخلیقِ آدمؑ کے وقت لیا گیا تھا۔
- تلاوتِ قرآن کے آداب (آیت 204): جب قرآن پڑھا جائے تو اسے خاموشی اور توجہ سے سننے کا حکم تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
سورہ الانفال: غزوہِ بدر اور مالِ غنیمت (آیت 1 تا 40)
- سچے مومن کی صفات (آیت 2-4): جن کے سامنے اللہ کا ذکر ہو تو دل لرز جائیں اور تلاوت سن کر ایمان میں اضافہ ہو۔
- جنگِ بدر میں غیبی مدد (آیت 9-14): ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی نصرت اور کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے جانے کا ذکر۔
- میدانِ جنگ سے فرار (آیت 15-16): دشمن کے مقابلے میں پیٹھ دکھانے کی سخت ممانعت (سوائے جنگی حکمتِ عملی کے)۔
- اطاعت کی پکار (آیت 20-25): اللہ اور رسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہنے کی تاکید، کیونکہ اسی میں زندگی کا راز ہے۔
- کفار کی تدبیریں (آیت 30): ہجرت سے قبل نبی کریم ﷺ کے خلاف کفار کی سازشوں کا ذکر اور اللہ کی بہترین تدبیر۔
- عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ (آیت 33): جب تک آپ ﷺ ان میں موجود ہیں اور جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے، اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔
