خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 29 (تَبَارَكَ الَّذِیْ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
اللہ کی بادشاہت اور قدرت (الملک، القلم، الحاقہ)
- موت اور زندگی کا مقصد (الملک): اللہ نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔
- نبی ﷺ کے اخلاق (القلم): "بیشک آپ ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں"؛ نیز قلم اور علم کی اہمیت کا بیان۔
- سچی ہونے والی (الحاقہ): قیامت کی ہولناکیوں اور سابقہ قوموں (عاد و ثمود) کے انجام کا تذکرہ۔
دعوت، صبر اور بندگی (المعارج، نوح، الجن، المزمل)
- حضرت نوحؑ کی پکار (نوح): ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن رات دعوت دینے اور ان کی نافرمانی پر آنے والے طوفان کا ذکر۔
- جنات کا ایمان (الجن): جنات کے ایک گروہ کا قرآن سننا اور اس کی فصاحت و بلاغت سے متاثر ہو کر ایمان لانا۔
- تہجد اور ترتیل (المزمل): نبی ﷺ کو راتوں میں قیام کرنے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھنے کا حکم۔
تبلیغ اور آخرت کا یقین (المدثر، القیامہ، الدھر، المرسلات)
- اٹھئے اور خبردار کیجئے (المدثر): نبی ﷺ کو تبلیغِ دین کے لیے اٹھ کھڑے ہونے اور اپنے کپڑے پاک رکھنے کی تاکید۔
- انسان کی تخلیق (الدھر/الانسان): انسان کا بے حقیقت قطرے سے پیدا ہونا اور پھر اسے شکر گزار یا ناشکرا بننے کا اختیار دیا جانا۔
- فیصلے کا دن (المرسلات): قیامت کے دن منکرینِ حق کے لیے بار بار ہلاکت اور تباہی کی وعید۔
