خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 13 (وَمَا أُبَرِّئُ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ یوسف کا بقیہ حصہ (آیت 53 تا 111)
- عروجِ یوسفؑ (آیت 54-57): حضرت یوسفؑ کی قید سے رہائی اور مصر کے خزائن پر ان کا تقرر۔
- بھائیوں سے ملاقات (آیت 58-87): قحط کے دوران بھائیوں کا غلہ لینے مصر آنا، بنیامین کو روک لینا اور سالہا سال بعد حضرت یعقوبؑ کو یوسفؑ کی خوشخبری ملنا۔
- خاندان کا ملاپ (آیت 88-100): حضرت یوسفؑ کا بھائیوں کو معاف کرنا اور والدین کا مصر آکر یوسفؑ کے سامنے سجدہِ شکر بجا لانا (خواب کی تعبیر)۔
- عجز و انکساری (آیت 101): حضرت یوسفؑ کی دعا کہ "اے اللہ! مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملانا"۔
سورہ الرعد: قدرتِ الٰہی (آیت 1 تا 43)
- حق کی نشانیاں (آیت 1-4): آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کرنا، زمین کا بچھونا، پہاڑ، دریا اور پھلوں کی مختلف انواع میں عقل والوں کے لیے نشانیاں۔
- علمِ غیب (آیت 8-10): اللہ ہر حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے اور ہر چیز اس کے پاس ایک مقدار کے ساتھ ہے۔
- دلوں کا اطمینان (آیت 28): "خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے"۔
- قوموں کی تبدیلی (آیت 11): اللہ کسی قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
سورہ ابراہیم: شکر اور دعا (آیت 1 تا 52)
- قرآن کا مقصد (آیت 1): یہ کتاب اس لیے اتاری گئی تاکہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔
- شکر کا قانون (آیت 7): "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا"۔
- کلمہِ طیبہ و خبیثہ (آیت 24-27): کلمہِ طیبہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت جیسی ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک ہیں۔
- دعائے ابراہیمؑ (آیت 35-41): مکہ کی سلامتی، اولاد کو نماز کا پابند بنانے اور والدین کی مغفرت کے لیے حضرت ابراہیمؑ کی جامع دعائیں۔
