خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 11 (یَعْتَذِرُونَ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ التوبہ کا بقیہ حصہ (آیت 94 تا 129)
- منافقین کے جھوٹے عذرات (آیت 94-96): غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی قسموں اور ان کی قلعی کھلنے کا ذکر۔
- سابقون الاولون (آیت 100): مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والوں کے لیے اللہ کی رضا اور جنت کی خوشخبری۔
- مسجدِ ضرار کا فتنہ (آیت 107-110): منافقین کی بنائی ہوئی مسجد کی حقیقت اور مسجدِ قبا (جو تقویٰ پر مبنی ہے) کی فضیلت۔
- مومنین کی توبہ (آیت 117-118): نبی کریم ﷺ، مہاجرین، انصار اور ان تین صحابہ (کعب بن مالکؓ اور ان کے ساتھیوں) کی توبہ کی قبولیت کا ذکر جو پیچھے رہ گئے تھے۔
- نبی ﷺ کی شفقت (آیت 128-129): رسول اللہ ﷺ کی اپنی امت کے لیے تڑپ، شفقت اور اللہ پر توکل کا بیان۔
سورہ یونس: توحید اور دعوتِ حق (آیت 1 تا 70)
- قرآن کی حقانیت (آیت 1-2): یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں، جس پر لوگ تعجب کرتے ہیں کہ اللہ نے ایک انسان کو وحی کے لیے کیوں چنا۔
- نظامِ کائنات (آیت 3-6): سورج کی روشنی، چاند کی چمک اور دنوں کا الٹ پھیر اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
- انسانی فطرت (آیت 12): انسان تکلیف میں اللہ کو پکارتا ہے، لیکن آسانی ملتے ہی اسے بھول جاتا ہے جیسے کبھی پکارا ہی نہ تھا۔
- چیلنج (آیت 37-38): منکرین کو چیلنج دیا گیا کہ اگر یہ کلام انسانی ہے تو اس جیسی ایک سورہ بنا لاؤ۔
- اولیائے اللہ (آیت 62-64): اللہ کے دوستوں کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم؛ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بشارت ہے۔
انبیاء کے قصص اور انجام (آیت 71 تا 109)
- حضرت نوحؑ و حضرت موسیٰؑ (آیت 71-92): فرعون کی سرکشی اور ڈوبتے وقت اس کے ایمان کا ذکر جو قبول نہ ہوا، اور اس کی لاش کو نشانِ عبرت بنانا۔
- قومِ یونسؑ کی استثنائی مثال (آیت 98): دنیا کی واحد قوم جو عذاب دیکھ کر ایمان لائی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔
سورہ ہود کا آغاز (آیت 1 تا 5)
- علمِ الٰہی (آیت 1-5): اللہ ہر چھپی اور کھلی چیز کا جاننے والا ہے، حتیٰ کہ وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے۔
