خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 19 (وَقَالَ الَّذِیْنَ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الفرقان کا بقیہ حصہ (آیت 21 تا 77)
- برے دوستوں کی حسرت (آیت 27-28): قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
- عباد الرحمن کی صفات (آیت 63-75): رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، جاہلوں سے الجھتے نہیں، راتیں سجدے میں گزارتے ہیں اور خرچ میں اعتدال رکھتے ہیں۔
سورہ الشعراء: انبیاء کی پکار (آیت 1 تا 227)
- موسیٰؑ اور فرعون (آیت 10-68): حضرت موسیٰؑ کی فرعون کے دربار میں دعوت اور سمندر کے پھٹنے کا معجزہ جس میں بنی اسرائیل نجات پا گئے اور فرعون غرق ہوا۔
- ابراہیم علیہ السلام کی دعا (آیت 78-89): "وہ جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی کرتا ہے"؛ قیامت کے دن صرف وہ کامیاب ہوگا جو "قلبِ سلیم" (پاکیزہ دل) لائے گا۔
- دیگر انبیاء کے قصص (آیت 105-191): نوحؑ، ہودؑ، صالحؑ، لوطؑ اور شعیبؑ کی اپنی اپنی قوموں کو دعوت اور ان کی نافرمانی پر آنے والے عذابوں کا ذکر۔
- شعراء کی حقیقت (آیت 224-227): شاعروں کے بارے میں بیان کہ وہ تخیل کی وادیوں میں بھٹکتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور اللہ کا کثرت سے ذکر کیا۔
سورہ النمل: اللہ کی قدرت اور معجزات (آیت 1 تا 55)
- حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی (آیت 17-19): حضرت سلیمانؑ کا لشکر گزرتے ہوئے چیونٹی کی بات سن لینا اور مسکراتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرنا۔
- ہدہد اور ملکہ سبا (آیت 20-44): ہدہد کا ملکہ سبا کے بارے میں خبر لانا، حضرت سلیمانؑ کا خط بھیجنا اور بالآخر ملکہ کا حق پہچان کر ایمان لانا۔

No comments:
Post a Comment