خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 25 (اِلَیْہِ یُرَدُّ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الشوریٰ: مشورہ اور وحدت (آیت 1 تا 53)
- اتحادِ دین (آیت 13): تمام انبیاء کو ایک ہی دین (اسلام) قائم کرنے اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا۔
- باہمی مشاورت (آیت 38): مومنوں کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اہم معاملات "باہمی مشورے" سے طے کرتے ہیں۔
- اولاد کا عطیہ (آیت 49-50): آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے؛ وہ جسے چاہے بیٹیاں دے، جسے چاہے بیٹے، اور جسے چاہے بانجھ کر دے۔
سورہ الزخرف: دنیاوی زیب و زینت (آیت 1 تا 89)
- سفر کی دعا (آیت 13-14): سواری پر بیٹھتے وقت اللہ کا شکر ادا کرنے اور "سبحان الذی سخر لنا ھذا..." پڑھنے کی تعلیم۔
- دنیا کی حیثیت (آیت 33-35): اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہو جائیں گے، تو اللہ کافروں کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی اور سونے کی بنا دیتا؛ کیونکہ اللہ کے نزدیک دنیا کی زینت کی کوئی قدر نہیں۔
سورہ الدخان اور سورہ الجاثیہ
- لیلۃ المبارکہ (سورہ الدخان): قرآن مجید ایک برکت والی رات میں نازل ہوا جس میں تمام حکمت والے معاملات طے کیے جاتے ہیں۔
- فرعون کا انجام (سورہ الدخان): فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہونے کا ذکر کہ ان کے مرنے پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین۔
- شریعت کی پیروی (سورہ الجاثیہ): نبی ﷺ کو ایک واضح شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا گیا ہے اور انہیں اسی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔
- اپنے نفس کو معبود بنانا (آیت 23): اس شخص کی مذمت جس نے اپنی "خواہشِ نفس" کو اپنا معبود بنا لیا۔

No comments:
Post a Comment