خلاصہ القرآن - پارہ نمبر 24 (فَمَنْ أَظْلَمُ)
۞ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۞
سورہ الزمر: امید اور توبہ (آیت 32 تا 75)
- اللہ کی رحمت (آیت 53): یہ قرآن کی سب سے زیادہ امید افزا آیت ہے: "اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے"۔
- حشر کے مناظر (آیت 67-75): قیامت کے دن زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی، صور پھونکا جائے گا اور لوگوں کو گروہ در گروہ جنت اور دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔
سورہ المؤمن (غافر): غافر الذنب (آیت 1 تا 85)
- اللہ کی صفات (آیت 3): وہ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔
- عرش اٹھانے والے فرشتے (آیت 7): عرش کو اٹھانے والے فرشتے اہل زمین کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔
- مومنِ آلِ فرعون کا قصہ (آیت 28-45): فرعون کے دربار میں موجود ایک چھپے ہوئے مومن کا ذکر جس نے حضرت موسیٰؑ کی حمایت کی اور بڑی حکمت سے اپنی قوم کو حق کی دعوت دی۔
- دعا کی ترغیب (آیت 60): "مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا"۔
سورہ حٰم السجدہ (فصلت): استقامت (آیت 1 تا 46)
- تخلیقِ کائنات (آیت 9-12): زمین و آسمان کی چھ دنوں میں تخلیق کا ذکر۔
- جسمانی اعضاء کی گواہی (آیت 20-22): قیامت کے دن انسان کے کان، آنکھیں اور کھالیں اس کے خلاف گواہی دیں گی۔
- استقامت کا صلہ (آیت 30-32): جو لوگ کہتے ہیں "ہمارا رب اللہ ہے" اور پھر اس پر جم جاتے ہیں، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو انہیں جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔
- بہترین بات (آیت 33): اس سے اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔

No comments:
Post a Comment